Meri Zindagi Ko Sanwarny Wala By KU Rajput Writer Episode No 17


ناول: میری زندگی کو سنوارنے والا

رائٹر: کے یو راجپوت

قسط نمبر ۱۷

وہ روڈ کراس کر کے گاڑی تک آیا اور دروازہ کھول کر اس نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر خانی اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔

"خانی یہ آئس کریم لے لیں"۔ اس نے آئس کریم خانی کی طرف بڑھائی جو اس نے پکڑ لی تھی۔

"مجھے کچھ کہنا تھا"۔ وہ جھجھکتے ہوئے بولی تھی۔ 

"جی بولیں!!! کیا کہنا ہے"۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔

"میرا سڑک پر پیدل چل کر آئس کریم کھانے کا دل کر رہا ہے"۔ اس نے بہت ہمت کر کے اپنی خواہش بتائی تھی۔ 

"خانی!! مجھ سے اپنی خواہش کا اظہار بغیر ڈرے کر سکتی ہیں۔ چلیں آ جائیں پھر پیدل چل کر آئس کریم کھاتے ہیں"۔ وہ گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولا تھا اور گاڑی کے دوسری سائیڈ آ کر خانی والی سائیڈ کا دروازہ کھولا تو خانی اپنی آئس کریم ہاتھ میں لیے باہر آئی تھی۔ فاتح گاڑی کو لاک کر کے واپس اس کی طرف آیا تھا۔

اب وہ دونوں ویران سڑک پر اکیلے چل رہے تھے۔ 

فاتح!!!! خانی نے نرم لہجے میں پکارا تھا۔ 

ہممم بولیں!!! وہ آئس کریم کو اوپن کر رہا تھا۔ اس کے نام پکارنے پر اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

"آپ بہت اچھے ہیں!!!! اللّٰہ میری بیٹی کو بھی آپ جیسا لائف پارٹنر عطا کریں" وہ پیار بھرے لہجے میں بولی تھی۔ فاتح کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی۔

"ہممم لیکن خانی جتنا اچھا نہیں ہوں، آپ مجھ سے کہیں زیادہ اچھی ہیں"۔ آنکھوں میں بےتحاشہ پیار لیے وہ مخاطب تھا۔

"لیکن میں کیسے اچھی ہوں؟ آپ اچھے ہیں اس لیے مجھے آپ نے اپنایا ، اگر میں اچھی ہوتی تو وہ مجھے کبھی نہ چھوڑتے"۔ وہ افسردگی سے بولی تھی۔ آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کیا تھا۔ 

فاتح کا دل اس کی اداسی دیکھ ڈوبا تھا۔ وہ روڈ پر چلتے ہوئے ہی اس کے روبرو آ گیا تھا۔

"خانی !!! آپ پلیز اس کو یاد کر کے پریشان نہیں ہوا کریں، وہ اچھا نہیں تھا اس لیے اس نے آپ کی قدر نہیں کی ، لیکن یقین مانیں !!! آپ مجھے دل و جان سے بھی پیاری ہیں، اتنی عزیز ہیں کہ میں آپ کے بغیر جینا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ کبھی آپ کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سبب نہیں بنوں گا، میں آپ کو اداس نہیں دیکھ سکتا، آپ پلیز اداس نہیں ہوا کریں"۔ اس نے پیار سے سمجھانا چاہا تھا۔ 

اس نے نوٹ کیا خانی نے ابھی تک آئس کریم کھانا شروع نہیں کی تھی۔

"خانی!!! آپ نے ابھی تک آئس کریم اوپن کیوں نہیں کی"۔ 

"ادھر لائیں میں اوپن کر دیتا ہوں"۔ اس نے اس کے ہاتھ سے آئس کریم لی اور اس کو ان کور کرنے لگا۔

"یہ لیں خانی!!! چلیں اب شاباش جلدی سے فینیش کریں ، اور اب آپ نے پریشان نہیں ہونا"۔ آئسکریم اس کو پکڑاتے ہوئے کہا تھا۔

چلتے چلتے وہ دونوں گاڑی سے کافی دور آ گئے تھے، اور دونوں کی آئس کریم بھی ختم ہو گئی تھی۔

"آآآآ"۔ خانی کراہی تھی۔ اس کے جوتے میں شاید کچھ چبا تھا۔ 

"کیا ہوا خانی ؟" وہ اس کے سامنے آیا تھا۔

"پتہ نہیں شاید کچھ چبھ گیا ہے پاؤں میں"۔

"ادھر آئیں یہاں پر بیٹھیں۔ میں دیکھتا ہوں"۔ اس نے اسے روڈ کے لیفٹ سائیڈ پر ایک بڑے پتھر پر بیٹھنے کو کہا تھا تو وہ مشکل سے قدم اٹھاتے ہوئے اس پتھر پر آ کر بیٹھ گئی تھی۔

فاتح اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کے چپل سے کیل نکالنے لگا جو کہ جوتی کے ساتھ پاؤں میں بھی چبھ گئی تھی۔

"آااہ"۔ اس کے کیل نکالنے سے اسے درد ہوا تھا۔ پھر کیل نکلنے کے بعد اس نے فاتح کو دیکھا جو اب اس کے پاؤں پر خون کو روکنے کے لیے اپنا رومال باندھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ چہرے پر پریشانی بھی عیاں تھی۔

خانی کے لب مسکرائے تھے۔ "فاتح میری اتنی فکر نہ کیا کریں، میں آپ کی جدائی برداشت نہیں کر پاؤں گی"۔ اس نے قرب سے سوچا تھا۔

"خانی!!! اب کیسا محسوس کر رہی ہیں"۔ اس نے اس کی طرف متوجہ ہوئے پوچھا تھا۔

"ابھی اتنا درد نہیں ہو رہا۔ تھینک یو"۔ 

"چلیں اب چل کر دکھائیں"۔ اس نے اسے ہاتھ سے تھامتے ہوئے کھڑا کیا تھا مگر وہ صحیح سے چل نہیں پائی تھی۔

"چلیں !!! کوئی بات نہیں۔ پاؤں پر زیادہ زور نہیں ڈالیں"۔ اس نے جھک کر اسے گود میں لے لیا تھا۔ خانی اس افتاد کے لیے تیار نہ تھی اس نے اپنا چہرا اس کے سینے میں چھپا لیا تھا۔ فاتح کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا۔ 

"خانی کیا ہوا؟ میری طرف دیکھیں!!!" خانی کے رخسار پنک ہوئے تھے مگر اس نے چہرا باہر نہ نکالا۔ تو فاتح اس کے چہرے پر اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑ گیا۔ 

خانی اس کے سینے میں مزید سمٹی تھی۔ 

"ہاہاہا!!! خانی یو آر سو کیوٹ"۔ کہہ کر وہ اس کے دوپٹہ سے باہر آتے سر پر بھی لب رکھ گیا تھا۔

وہ اسے اٹھائے واپس گاڑی کی طرف مڑنے لگا تھا اور نظر ایک پل کو بھی خانی سے نہ ہٹائی جو اس سے منہ چھپانے کی ناممکن کوشش کر رہی تھی۔

"خانی بس آپ میرے ساتھ ہمیشہ رہیں، مجھ سے ایک پل کے لیے بھی دور نہ جائیں! میں آپ کی دوری برداشت نہیں کر پاؤں گا پلیز اللّٰہ مجھے خانی سے کبھی دور نہ کیجیے گا"۔ فاتح کی رگوں میں اچانک خانی کو لیے ایک عجیب سا خوف سرائیت کرنے لگا تھا جیسے خانی اس سے دور چلے جائے گی۔ ایک آنسو اس کے گال سے ہوتا ہوا خانی کے چہرے پر بھی گرا تھا۔

اپنے چہرے پر کچھ گیلا محسوس ہونے پر اس نے اپنا منہ اس کے سینے سے نکال کر فاتح کو دیکھا تھا جو اسی کو پیار بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

"فاتح!!! آپ رو رہے ہیں کیا؟" اس نے پریشانی سے پوچھا تھا۔

"نہیں تو!!! آپ کو ایسا کیوں لگا؟" وہ اسے اپنے آنسو نہیں دیکھانا چاہتا تھا۔

"لیکن مجھے میرے گال پر کچھ گیلا محسوس ہوا تھا"۔ وہ اس کی آنکھوں میں تجسس سے دیکھنے لگی۔

"نہیں رو رہا ہوں خانی!!!! جب آپ میرے پاس ہیں تو پھر میں کیوں روؤں گا، ہاں اللّٰہ نہ کرے کبھی آپ میرے پاس نہ ہوئی تو تب ضرور میں نے روتے رہنا ہے"۔ بولتے ہوئے اس نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا۔

"نہیں پلیز!!! آپ نے کبھی نہیں رونا!!! جیسے آپ مجھے روتا ہوا نہیں دیکھ سکتے ہیں اسی طرح میں بھی نہیں دیکھ سکتی۔ میں آپ سے دور کبھی نہیں جاؤں گی"۔ وہ روہانسی ہوئی تھی۔ اس کی بات پر فاتح کا دل تیزی سے دھڑکا تھا۔

"یعنی کہ آپ بھی میری آنکھ میں آنسو نہیں دیکھ سکتیں۔ لیکن کیوں؟ میں تو آپ سے محبت کرتا ہوں اس لیے نہیں دیکھ سکتا ، آپ کیوں نہیں دیکھ سکتیں"۔ وہ اسے شرارت سے کہہ رہا تھا۔ 

"و۔وہ بس ایسے ہی میں کسی انسان کی آنکھ میں آنسو نہیں دیکھ سکتی نا اس لیے"۔ وہ لب کچل کر بولی تھی۔

"ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ سیریسلی۔۔۔۔۔۔ خانی مجھ سے جھوٹ بھی بولیں گی؟" اس نے گھوری سے دیکھتے ہوئے ابرو اچکائے پوچھا تھا۔

"نہیں۔ میں نے جھوٹ تو نہیں کہا"۔ وہ آنکھیں چراتے ہوئے بولی تھی اور منہ واپس اس کے سینے میں چھپا گئی تھی۔

فاتح نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا تھا۔ وہ دونوں گاڑی تک پہنچ گئے تھے۔

"خانی ایک منٹ یہاں کھڑی ہوں۔ میں گاڑی ان لاک کر لوں"۔ وہ اسے اپنی گود سے اتارتے ہوئے بولا تھا۔ خانی سر اثبات میں ہلائے کھڑی ہو گئی۔ 

اس نے گاڑی کو ان لاک کر کے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا اور خانی کی طرف آیا۔

اس سے پہلے خانی کچھ بولتی اس نے اسے واپس گود میں اٹھایا اور فرنٹ سیٹ پر احتیاط سے بٹھا دیا۔ خود بھی اس نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی۔ 

گاڑی ایک بار پھر سڑک پر چل رہی تھی ، فاتح نے موبائل میں ٹائم دیکھا تو ۱۲ بجنے کو تھے۔

خانی بھی آہستہ آہستہ نیند کی وادیوں میں چلی گئی تھی، فاتح نے اسے دیکھا تو چہرے پر مسکراہٹ لائے سر جھٹکا تھا۔ 

____________________♥_________________

ابیہہ بیگم اپنے شوہر کے پاس روانہ ہونے سے پہلے تانیہ کو انیتہ بیگم کے پاس چھوڑ گئیں تھیں۔ انیتہ بیگم نے بھی اس کا خوش اسلوبی سے استقبال کیا تھا۔ 

اس نے باتوں باتوں میں انیتہ بیگم سے فاتح کے بارے میں پوچھ لیا تھا کہ وہ کہاں ہے تو انہوں نے اسے بتایا تھا کہ ملازم بتا رہے تھے کہ وہ دونوں کہیں باہر گئے ہیں۔

ان کے ساتھ کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ ٹیرس پر آ گئی تھی ، نظریں فاتح کے انتظار میں مین گیٹ پر مرکوز تھیں۔ اسے انتظار کرتے کرتے ۳ گھنٹے گزر گئے تھے مگر وہ لوگ ابھی تک نہیں آئے تھے۔ سب گھر والے سو چکے تھے مگر وہ فاتح سے ملے بغیر نہیں سونا چاہتی تھی۔

تقریبا ۱ بجے کے قریب ان کی گاڑی پورچ میں داخل ہوئی تھی۔ تانیہ گاڑی کی آواز پر فورا گرل کے پاس آ کر کھڑی ہوئی اور نظریں گاڑی پر مرکوز کیں۔

فاتح گاڑی سے نکل کر خانی والی سائیڈ آیا، جو ابھی تک گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی، فاتح نے اسے احتیاط سے اٹھایا کہ اس کی آنکھ نہ کھلے اور اسے لیے لاونج کی طرف بڑھ گیا۔

تانیہ نے چبھتی نظروں سے یہ منظر خود پر ضبط کرتے ہوئے دیکھا تھا، اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسے کڈنیپ ہونے سے پہلے ہی ختم کر دے، مگر وہ فاتح کی نظروں میں برا نہیں بننا چاہتی تھی۔ جلتے کرہتے اب وہ بھی ٹیرس سے نیچے اتر آئی تھی، سیکنڈ پورشن پر جہاں فاتح اور فاتحہ کا روم تھا ، اور دو مزید روم خالی ہی ہوتے تھے، وہ فاتح کے کمرے کے باہر سائیڈ پر کھڑی ہو کر اندر دیکھنے لگی۔

فاتح خانی کو بیڈ پر لیٹا کر اس کے اوپر کمفرٹ اوڑھ کر کپڑے چینج کرنے وارڈ روب میں چلا گیا تھا۔

تانیہ کا دل کیا وہ خانی کا گلا دبا آئے، مگر اس نے اپنے آپ پر ضبط کیے رکھا اور اس سے پہلے اسے کوئی وہاں ایسے کھڑے دیکھتا وہ وہاں سے نیچے چلی آئی تھی۔

___________________♥___________________

فاتح نائٹ ڈریس میں وارڈ روب سے نکلا اور بیڈ پر آ کر خانی کے پاس بیٹھ گیا تھا۔

شب بخیر خانی!!! کہتے ہوئے اس نے اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھے ، اور واپس کھڑا ہو گیا۔

کچھ دیر وہ سوچتا رہا کہ بیڈ پر سوئے یا صوفہ پر، پھر کچھ خیال آنے پر وہ بیڈ کی دوسری سائیڈ آیا تھا۔

بیڈ پر خانی سے کچھ فاصلہ پر بازو سر پر رکھے وہ بھی آنکھیں موند گیا تھا اور کچھ دیر میں وہ نیند کی وادیوں میں چلا گیا تھا۔

۳ بجے کے قریب خانی کی آنکھوں میں حرکت ہوئی تھی۔

"پلیز میری بیٹی کو چھوڑ دیں ، اسے کچھ نہیں کہیں، مجھے میری بیٹی دے دیں پلیز"۔ وہ نیند میں بول رہی تھی۔

"نہیں پلیز میری بیٹی کو نہیں ماریں ، مجھے میری بیٹی دے دیں"۔ آہستہ آہستہ اس کی آوازیں اونچی ہو گئیں تھیں۔

آآآ۔ ایک دم وہ نیند سے گڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی۔ کچھ دیر بعد اسے محسوس ہوا وہ خواب دیکھ رہی تھی، اس نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا تھا۔

اس کی چیخ کی آواز سے فاتح کی آنکھ بھی کھل گئی تھی، اس نے خانی کو دیکھا جو رو رہی تھی۔

اسے روتا دیکھ فاتح کا دل بری طرح سے کانپا تھا، وہ تیزی سے اٹھ کر بیٹھا اور خانی کو اپنے ساتھ سینے سے لگا لیا تھا۔

"خانی!!! پلیز روئیں نہیں!!! بتائیں کیا ہوا ہے؟" وہ اسے مسلسل اپنے ساتھ لگائے ہاتھ سے اس کے سر کو سہلا رہا تھا مگر وہ چپ نہ ہوئی تو اس نے اسے اپنے سے الگ کر کے ٹھوڑی سے اس کا چہرا اوپر کیا تھا۔

"خانی اگر آپ چپ نہیں ہوئی تو میں بھی رو دوں گا، پلیز مجھے بتائیں کیا ہوا ہے؟" اس نے نم آواز میں پیار بھرے لہجے میں پوچھا تھا۔

"و۔وہ مم۔میری بیٹی کو مم۔مار دیں گے۔ اآ۔آپ پلیز مم۔میری بب۔بیٹی کو لے آئیں"۔ وہ ہکلاتے ہوئے حق سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی تھی اور سر واپس اس کے سینے پر رکھ دیا تھا۔

"میں صبح ہی جنت کو لے آؤں گا مگر پلیز آپ روئیں نہیں"۔ وہ انگلیوں کی پوروں سے اس کے آنسو صاف کرنے لگا تھا۔

اس کی بات پر خانی نے سر اثبات میں ہلایا تھا، اب وہ چپ ہو گئی تھی۔ مگر سر اس کے سینے میں ہی رکھے رکھے وہ دوبارہ سو گئی تھی۔

اسے سوئے پایا تو اس نے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے۔

خانی!!! آپ کے آنسو پتہ نہیں مجھے کیوں اتنے تکلیف دیتے ہیں، ایسا لگتا ہے کسی نے میرا دل میٹھی میں قید کر لیا ہو۔ آپ پلیز رویا نہیں کریں۔ 

وہ نم آواز میں اس سے سرگوشی نما مخاطب تھا۔

فاتح کی نیند اس کے رونے سے اڑ چکی تھی، اب اسے کہاں نیند آنی تھی۔ وہ صبح ہونے تک یوں ہی اسے اپنے سینے سے لگائے بیڈ کی بیک سائڈ سے ٹیک لگائے بیٹھا رہا تھا۔ ساری رات سوچوں کا مرکز خانی رہی تھی۔ صبح کے وقت اسے بھی نیند آنے لگی تھی تو وہ یوں ہی بیٹھے بیٹھے آنکھیں موند گیا تھا۔

___________________♥__________________

صبح کا سورج طلوع ہو چکا تھا اور سب گھروں کو اپنی تپش میں لے رہا تھا۔ فاتح اور خانی اس بات سے بے خبر سو رہے تھے کہ آج کی صبح ان کے لیے جدائی لے کر آئے گی، یہ صبح کسی کی جدائی کا سبب بنے گی تو کسی کے ملن کا، کسی کی خوشی کا، تو کسی کے دکھ کا۔ دیکھتے ہیں قسمت ان کی زندگی میں کیا موڑ لانے والی ہے؟

تانیہ کے کمرے میں جھانکا جائے تو وہ موندی موندی آنکھیں کھولے ابھی ابھی ہی جاگی تھی، رات کا منظر آنکھوں کے سامنے لہرایا تو وہ جھٹکے سے اٹھی تھی۔ 

"خانی اگر خان تم سے محبت نہ کرتا ہوتا تو میں نے تمہیں آج صبح ہی زہر دے دینا تھا، میں تمہیں ایک پل کے لئے بھی فاتح کے ساتھ مزید برداشت نہیں کر پاؤں گی"۔ نفرت بھری آنکھوں سے وہ خود سے محو کلام تھی۔

کچھ سوچتے ہوئے وہ بیڈ سے اٹھی، کمرے سے نکل کر لاونج سے ہوتی ہوئی، زینے چڑھ کر وہ فاتح کے روم کے باہر آئی تھی۔

دروازے کو ہلکا سا ٹچ کیا تو اسے وہ لاک نہیں ملا، اس نے شکر کا سانس لیا تھا، دروازے کو ہلکا سا کھول کر اس نے اندر جھانکا تو فاتح کو خانی کو اپنے سینے کے ساتھ لگائے لیٹے دیکھا تو اس کا خون کھولا تھا۔

وہ کمرے کے باہر کوئی چیز ڈھونڈنے لگی تو اسے دور نظر دوڑانے پر ایک گلدان نظر آیا ، وہ اسے اٹھا لائی اور کمرے کے باہر کھڑے اسے زور سے نیچے پھینکا کہ شور سے ان کی آنکھ کھل جائے ، اور فاتح خانی سے الگ ہو جائے، خود وہ فل سپیڈ میں دبے قدموں کے ساتھ نیچے کی طرف بھاگی تھی۔

فاتح اور خانی دونوں کی گلدان گرنے سے آنکھ کھل گئی تھی ، خانی نے اپنے آپ کو اس کے سینے سے لگے لیٹے پایا تو چہرے پر شرمندگی لیے وہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی، اس کے اس طرح سے اٹھنے پر فاتح کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا۔

"مم۔میں یہاں کیسے آئی ؟" اس نے پریشانی سے بغیر اس کی طرف دیکھے پوچھا تھا۔ فاتح اس کی شرمندگی بھانپ گیا تھا۔

"ادھر میری آنکھوں میں دیکھیں خانی!!" اس نے قریب آ کر ٹھوڑی سے اس کا چہرا اوپر کر کے نرمی سے کہا تھا۔ خانی نے پلکیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو اس کی محبت بھری آنکھوں کے سحر میں کھو گئی تھی۔ فاتح بھی کچھ دیر تک اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا ، پھر نظر جھٹک کر اس سے گویا ہوا تھا۔

"خانی !!! آپ مجھ سے نروس کیوں ہوتی ہیں؟ میں آپ کا شوہر ہوں نا!! آپ پلیز مجھ سے گھبرایا نہیں کریں۔ اوکے خانی ؟" آخر میں استفسار کرتے ہوئے اس نے اس کی پیشانی کو چوما تھا۔ خانی نے اپنا سر اثبات میں ہلایا تھا۔

"چلیں!!! اب ہم فریش ہو جاتے ہیں پھر ناشتہ کر کے مجھے اپنی جنت گڑیا کو بھی لینے جانا ہے"۔ وہ پیار بھرے لہجے میں بولا تھا۔ اس کی بات پر خانی خوشی سے پھولے نہ سمائے تھی۔

"اآپ بہت اچھے ہیں"۔ اس نے بے ساختہ کہا تھا۔ اس کے چہرے پر خوشی دیکھ فاتح کا دل بھی خوش ہوا تھا، وہ اسے ہمیشہ ایسے ہی خوش دیکھنا چاہتا تھا، لیکن قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔

اسی کی خوشی کے لئے آج وہ اس کی بیٹی کو لینے جا رہا تھا۔ اس بات سے بے خبر کہ جب وہ جنت کو لے کر واپس آئے گا تو خانی اس سے بہت دور چلی جائے گی۔

"خانی میں سچ میں اچھا ہوں؟" اسے کچھ شرارت سوجی تھی۔

"جی!!! بہت اچھے ہیں"۔ وہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنائیت سے بولی تھی۔

"اگر میں اچھا ہوں تو میری ایک بات مانیں گی، اور اگر آپ نہیں مانیں گی تو میں سمجھوں گا میں اچھا نہیں ہوں؟" وہ شرارت سے اپنی ہنسی دبائے منہ بسورے بول رہا تھا۔

"آپ سچ میں بہت اچھے ہیں ، آپ بولیں جو کہیں گے ، کروں گی"۔ وہ پہلے والے انداز میں ہی بولی تھی۔

فاتح نے اپنی آنکھیں بند کر کے چہرا اس کے قریب کیا اور اپنی شہادت والی انگلی رائٹ گال پر رکھی۔ 

خانی کے گال اس کے مطالبے کو سمجھ کر سرخ ہوئے تھے، دل زور سے دھڑکنے لگا تھا۔ 

اپنی دھڑکن پر قابو پاتے ہوئے وہ اپنے لب اس کے قریب لے کر گئی۔ اس کے اتنے قریب آنے پر فاتح کی سانسیں تھمی تھیں ، خانی آنکھیں بند کر کے اس کے گال پر اپنے لب رکھتے ہی بیڈ سے اتر کر فل سپیڈ میں وارڈ روب کی طرف بھاگی تھی۔

وہ جو اس کے لبوں کا لمس پا کر ہوش سے بیگانہ ہو گیا تھا۔ خانی کو ایسے شرماتے بھاگتے دیکھ اس کا جاندار قہقہہ بلند ہوا تھا۔

" ہاہاہا خانی یو آر سو کیوٹ۔ لو یو سو مچ"۔ اس نے دل میں کہا تھا اور ہنستے ہوئے سر جھٹک کر وہ بھی بیڈ سے اتر آیا تھا۔

____________________♥__________________




Comments

Popular posts from this blog

Meri Zindagi Ko Sanwarny Wala By Kanwal Rajput