Meri Zindagi Ko Sanwarny Wala By Kanwal Rajput
ناول: میری زندگی کو سنوارنے والا
رائٹر: کنول راجپوت
قسط نمبر ۱
سورج غروب ہونے کو تھا۔ آہستہ آہستہ رات نے بھی اپنے پر پھیلانا شروع کر دئیے تھے۔ اچانک سڑک پر درخت کے ساتھ بیٹھی لڑکی کو دیکھ کر ایک گاڑی رکی تھی۔
اس میں سے ایک پرکشش ، خوبصورت اور مردانہ وجاہت سے بھرپور ایک شخص گاڑی سے باہر نکلا تھا اور نظر دور سڑک کے دوسرے پار درخت کے ساتھ بیٹھی ایک لڑکی پر گئی تھی۔
جو زمین سے کسی کے گرے ہوئے چاول کھانے میں مگن تھی۔ اسے زمین سے کھاتے دیکھ فاتح کا دل برا ہوا تھا۔
قدم نا چاہتے ہوئے بھی اس کی طرف بڑھنے لگے تھے۔ اور سڑک کراس کر کے اس لڑکی تک پہنچا اور پاؤں کے بل اس کے پاس بیٹھ گیا تھا۔
"سنے ! آپ زمین سے چاول اٹھا کر کیوں کھا رہی ہیں ؟" فاتح نے اپنے گلاسز اتارے ہوئے پوچھا تھا۔
لڑکی نے اچانک اپنے پاس کسی مرد کو دیکھا تو گھبراہٹ میں اپنا دوپٹہ سیٹ کرنے لگی اور اپنے آپ میں سمٹنے لگی تھی۔
"دیکھیں!!! آپ گھبرائیں نہیں میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ میں بس آپ کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ اور آپ پلیز یہ زمین سے چاول اٹھا کر نہ کھائیں"۔
"م۔م۔مج۔مجھے بھ۔بھوک ل۔لگی ہے او۔اور میرے پاس کچھ کھانے کے لیے نہیں ہے"۔ وہ گھبراہٹ میں ہکلاتے ہوئے بمشکل بول سکی تھی۔
"آپ میرے ساتھ آئیں میں آپ کو کچھ لے کر دیتا ہوں۔ میری گاڑی وہ کھڑی ہے"۔ اس نے اپنی گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔
"مجھے آپ کے ساتھ نہیں آنا۔ آپ جائیں"۔ وہ ڈرتے ہوئے بولی تھی۔
"دیکھیں۔ کافی ویران علاقہ ہے۔ اور یہاں آس پاس کوئی ہے بھی نہیں۔ ایسے میں میں آپ کو یہاں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا"۔
پتہ نہیں اس لڑکی کو اکیلا چھوڑنے کے لیے اس کا دل کیوں نہیں مان رہا تھا پہلے تو کبھی اس نے کسی کی مدد نہیں کی تھی۔ تو پھر آج کیوں وہ اس لڑکی کو فورس کر رہا تھا۔
جب مقابل سے کوئی آواز نہ آئی۔ تو وہ دوبارہ گویا ہوا تھا۔
"دیکھیں!!! مس میں آپ کا نام تو نہیں جانتا جس سے میں آپ کو پکار سکوں۔ پلیز میرا یقین کریں۔ میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا"۔
"آ۔آپ م۔مجھے م۔ما۔مارے گے تو نہیں ؟" اس شخص کے مسلسل نرم لہجے میں بات کرنے پر اس کا دل تھوڑا مطمئن ہوا تھا۔
"نہیں مارو گا"۔ وہ نرم لہجے میں بولا تھا۔
"او۔اور میرے اوپر گرم گرم چائے اور پانی بھی نہیں گرایا کریں گے ؟" وہ معصومیت بھرے لہجے میں روتے ہوئے بولی تھی۔
اس کے اس طرح پوچھنے پر فاتح کا دل بھی ڈوبنے لگا تھا۔
"دیکھیں!! میں آپ کو ڈانٹوں گا نہ آپ کو ماروں گا۔ آپ مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہیں"۔ وہ نرم لہجے میں بولا تھا۔
"لیل۔لیکن س۔سب مرد برے ہوتے ہیں اور مارتے ہیں۔ کوئی کسی سے پیار نہ۔نہیں کرتا۔ م۔میں اس سے ک۔کتنا پیار کرتی تھی۔ لیکن و۔وہ مجھ سے ب۔بلکل بھی پیار نہیں کرتا تھا ر۔روز مارتا تھا اپ۔اپنے گھر والوں کی وجہ سے"۔
"مجھے آپ کے ساتھ بھی نہیں جانا۔ کسی کے ساتھ بھی نہیں جانا۔ میں یہ چاول کھا لوں گی۔ آ۔آپ جائیں"۔ وہ روتے ہوئے بمشکل بولی تھی۔ اور اپنا سر گھٹنوں میں دے دیا تھا۔
اس کا ایک ایک لفظ اس کو اپنے دل پر لگتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ وہ بھی تو کتنا گنہگار تھا۔ لیکن عورت زات کی بہت عزت کرتا تھا اور عورت زات پر ہاتھ اٹھانے کو نامردی سمجھتا تھا۔
کون تھا وہ جس نے اس انیس سالہ لڑکی کو اس مقام تک پہنچا دیا تھا کہ اسے مرد ذات سے بھروسہ ہی اٹھ گیا تھا وہ جو کوئی بھی تھا یہ تو تہ تھا فاتح اسے ڈھونڈ کر رہے گا۔
وہ وہاں سے اٹھا اور گاڑی تک آیا۔ اور گاڑی میں بیٹھتے ہی ڈرائیور کو کسی جگہ جانے کو کہا تھا اور لڑکی کو ویران جگہ اکیلا چھوڑ کر چلا گیا تھا۔
جب گاڑی روڈ سے غائب ہوئی تو لڑکی نے ایک پل کے لیے سر اٹھا کر دیکھا تھا اور پھر واپس اپنے ماضی کے منظر میں گم ہو گئی تھی۔ وہ مناظر اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے تھے۔ ابھی بھی وہ کسی ایک منظر میں کھو گئی تھی۔
"تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے چائے ٹھنڈی لے کر آیا کرو"۔ وہ چائے کا کپ اس کے اوپر گراتے ہوئے بولا تھا۔
خانی اچھلتے ہوئے دور ہوئی تھی ۔ کیوں کہ چائے بہت گرم تھی۔ اور روتے ہوئے بولی۔
"و۔وہ آ۔آپی نے مجھے کہا کہ آ۔آپ نے گ۔گرم چائے م۔مانگی۔ ہے۔ ورنہ میں ٹھنڈی کر کے لا رہی تھی"۔ وہ گھبراہٹ میں ہکلاتے ہوئے بولی تھی۔
"اب تم اپنا جرم میری بہن کے سر پر تھوپ رہی ہو۔ خبردار جو آئندہ میری بہن کا نام لیا۔ اب جاؤ میرے لیے ٹھنڈی چائے لے کے آؤ"۔
غصہ سے اس پر قہر کی نظر ڈالتے ہوئے بولا تھا۔
"جی۔ ابھی لے کر آتی ہوں۔ آپ غصہ تو نہیں ہوں"۔ وہ بمشکل اپنے آنسوؤں پر ضبط کرتے ہوئے بولی اور جلے ہوئے پیروں کے ساتھ بمشکل کچن تک پہنچی تھی اور اس ظالم کو اس پر گرم چائے گراتے ہوئے زرا رحم نہیں آیا تھا۔
کچن میں گئی تو نند چولہے کے پاس کھڑی تھی۔
"باجی آپ کو کتنا ٹائم ہے؟ مجھے چائے بنانی ہے"۔ وہ اداسی سے بولی تھی۔
"دیکھ نہیں رہی ایک چولہے میں گوشت اور دوسرے میں چنے ابلنے کے لیے رکھے ہیں"۔
"ابھی چولہا فارغ نہیں ہے جب فارغ ہو جائے تو چائے بنا لینا"۔ نورین لہجے میں تلخی سموئے بولی تھی۔
"باجی میں پانچ منٹ کے لیے صرف چنے اتار لوں وہ ابھی چائے مانگ رہے ہیں"۔ اس نے ایک بار پھر کوشش کرنا چاہی تھی۔
"تجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہہ دیا تو کہ دیا نا۔ جب چولہا فارغ ہوگا بنا لی"۔ نورین غصے سے چیخ کر بولی تھی، خانی اس کے غصے سے سہم گئی تھی۔
"جی ٹھیک ہے سوری باجی"۔ وہ وہیں کچن میں پری پر بیٹھ کر چولہا فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی تھی۔ اور دل ہی دل میں دعائیں کرنے لگی۔
"اللہ جی!!!! آپ تو جانتے ہیں نا وہ چائے مانگ رہے ہیں اگر میں نے دیر کر دی تو وہ کہیں مجھے کچن میں ہی آ کر سب کے سامنے نہ مارنا شروع کر دیں۔ آپ پلیز کچھ کیجیے نا کہ چولہا جلدی فارغ ہو جائے۔ اور میں ان کے لیے چائے بنا کر لے جاؤں"۔
جاری ہے۔
Comment my apni raye ka izhar zarur krin. Is ky sath hi Allah Hafiz
Comments
Post a Comment